جمانالقرآن:اری2011ء ڈاک کور فروویں
اسوئہ دو تکاآنماز مال 7 اکے انس والتے سے ہو تنا ےک بج تل اشن اکر فرمات ہیں : یھ اپنے رب کے نام سے مض نے پی اکا“
(امتلقی:۹۹:۱)۔ بییت وجلال کے باوج و نی صلی الل علیہ وسلم معطذرر تکرتے ہی ںکہ میس پڑھاہ انیس ہوں۔ بت مل امن دو بارہ
کے ہیں دو باروعزر یی ہوتاے : می یڑ یں سا ء او جیس ری با رآپ سے وٹ حت ہیں ۔گو اپہلا کت اور پہلاکام یڑ ح کاء لم ما ص لک رن بادیاگیا۔
وی لیے :رتو ںکوأٹھوءر بکو پادکر و(المزنل ٢ زس ئے) لہ بہداگی ے لیے ضرودی تو شہ ہے۔ انی و ع ی1قی سے :اے اوڑھ پیٹ
کر لیے وانےءأُشھواور بدا کر د۔ انار بک ڑاگ یکااعلا نکر د. اپنےارب کے لیے صب رک (اکمد خر ۱: سے کے )۔ ب ہکام چھکہ
ربکا ء رب کے ییے ہے اورا کا مکور بکی میتی الٰی بھی حا صل ہے ءلمذارب کے رات پر یلت ہو صب کر ناہے۔ اس ط رب دا یکو اگزبر ضرور یات اود تقاضوں سےآگاہکردماگیا_
عم مت دعوت :د عو تکاآنازق می علق ٹس دعوت بچیانے سےکیا جازہے تن سال میں چندسا شی میس رآجاتے ہیں۔ 1 دوسرے م لے بی اس وقت کے مم روج ری استما لکمرتے ہو ۓ د عو تکو بڑے ان پر یلان کا آغاز ہوا سے ۔کووصنا سے پکاراجاتاےء شی اکٹھاکیا جاتاے ء جس ہواہے۔ نادان اور شنہ دارو ںکوکھانے پہبلا ا جانا ہے سکم کے گی بازار ہوں پ کی شع ہکوئی تقریب ہو یاع کا طکامیلہ یا کا مو ء ہر مو تح پر دعوت پان ےکااجما مکیاجاناے۔ دعوت, مبیران مل میں کت چلرتے مصروف و
متح کر کر بھلاںَّمالّے۔
خا انہپ وپینراء سخ د عو تکاذر یجہ :ہہ لازم وعزوم ےکہ جب بھی دی نکی دعوت مچیلقی سے و مخاغانہ پر وپیکنرائبھی سراُٹھتا 1 ہے .می وج ےکہ جب ب یکمرمھنے اسلا مکی دعوت ٹین کی تذمخالطانہ پر دبین ےک ایک مفھ رک ہر پیداہوگئی۔ کا مو ہیا کا کاسیلہ :دای سے پیل اس کے مخالشین پینث اور جاک را وگو ںکو مچھا اگ یاکہ تح ہمارے شب ری ہے ہوء یہاں مھ ( يك ) کی ص رگرمیاں ہمارے لے ناقابل بر داشت بی ہو گی ہیں۔اند یش ےک ہکہیں حم ا سکا شکار نہ ہو جاکتو۔ ایک صحالی بل دوک بناداقعہ
با نکر تے ہی ںکہ جج اس دق ت کک تمچھایاعاند ہاج بت ککہ میس مقائل نی ہ وگیا۔ مس حرام جاتاتذر وگ یککانوں میں ڈا لک جاتا۔ انفا یک م ربہر سول الل صلی الد علیہ و صلم عادت کے لی ےہکھٹرے ہوتۓ تھے لی مرتبہ ا الام سنا۔ ول ٹیس ای ےآ پکوڈانا کہ آخرعقل مندہوں, قویں یز سے ٤ ارد رخ اس تک : پغام سنایئے۔ نقیتااسلام قو لک لااو رکہ ے والیل
7 پاکرپوارے تی ہک تک اسلام حرف ای ۔ ہیر وپ پینٹرا مر ( )ا کے تارف اوردعو تک پوس کاذر یع بنا آر بھی
تحت رت جح تحت
لم وت مک حر :دوس بھی ظحلم وستماورتشرد ہے دعو تکی نوس کے لے مہ بھی معاون خابت ہو ہے حضرتت ع رتجکوار نےکر [ لکل ہیں اور ہن اور کیب پرنوٹ ٹڑتے ہیں ۔ اہول ان مہ نکبقی ہیں : :عم رجہ کر سک ہ وکرلدہ لیکن اب الام ہمارے ول سے میں گیل ککنا۔ایمانءاہتیا جاور عزم سے جع پور چم نک رع عضو ہو جات ہیں۔
جخرت جز ا کے سان چیار سال کے ع سے می سکئی موائ 1ے خووٹسی صی الد علیہ و لم نے دعوت ٹین کی ہحکر براوراست دعات سے متاشر ہ ھکر اسلام تو لی ن ہکیا۔ حطر ہمزہ جات ۔ ایک رو زکووصناکے پاس ابو چچەل نے بھی صلی اللد علیہ وسلم پددست داز یکا۔ ھی ص الد علیہ لم عبر سےاذیت بر داش تکرتے رے او رکوگی جو اب ند دیا۔ اتفاقی سے بد الد بن جزعا کی لوننڈکیانے بی سادا ما راد یکھا۔ جب حظرت گمزہ شھار ے والی ںآتے آوا 26۶۳۶۶( الہ ہاۓ !تم خوود کک 022 کے رک یاگزری ! بی مفنا قماکہ رگ حبیت جاگا نشی سید سے قرلی کی تاس یس جا بی ابد پل س کہا : یس شجھ کے دمنپدا یمان نےآ اہول ء جو وہ کپتاے ودی می ںکپتاہوں ءکرلوج کر سکتے ہو داگی عنکاعبر اذ ول پروی او کردارءد جو تکاذ رنہ ءال کا تارف ٠ اور ال کے پچمیلاتو میں معاون ختار ال
آ بھی سی صورت ےک ایک بر طان می حافی اکن اوان ری لے طالبا نکی جا ىی کے لیے جائی ے۔انفاقی س ےکر فیار ہو جال ی ہے اور قید یل طالبان س ےکر دا رکا مطالع کر کی ہے۔ قید سے چو پرق ران میڈ ھی ہے اور تق تا سلا مک بُ جو شش مب بن جا ہے۔ بر طاعیہ ٹیش اسلام پیل کے ذر یج اسسلا مکیاد عو ت اورائس کے بارے یل ش لوک وشیا تکوڈو رک کی ہے۔ ایک صلان عورت ڈاکٹعافیہ صدلئی سے ؛ جوام بای قد میس صعو بیس بر داش تکررہی ہے۔
فی بغار : رحی۔لم ایی نکوطور دا گی ا سکا بھی سامزاے جونض بن حجار ٹک اکر تھاک ہآ خ مھ ( يك ) کی بت سکس پہاوے 1 خر کی باقوں سے زیادہ خوش آ ید ہیں۔ مہ ذاسا طی الا ین (داتالن پا ینہ کہیں۔اقانی یں بل ہگانے بانے والی الیک ذیکارلونڑی خریدی جا ٤ے ج سکواس شخی پر مت نکرد یا اتاجودعوت ے متاثر نظ بہار نضربن حارت لوگو ںکو مگ کر تا رکا ہلا تا نے سفوتااو ریش و عشر تکاسماما نکرتا.. آرج کے مو پائل ۷ ان 7ت 0 تبی*٣9ھھ“ھ2ھو لشوو خر ولخویات میں مشغو لکرنےکاذربیعہ ہیں۔ ودماحولل جس میں سار ی قوج ہکھانے مم جلس ی تسکین گان ہیانے ء تفر بات اور فنونلطیقہہ بسنتءو یلنٹائع ڈ ےکی طرف مبذزول ہو جاۓ وددعومت حقن کے لے سازگار یں رہتی کم مل بھی اس ”نا اار٠ کے لی لغم دعوت می چگیلی ہآ جبھی پیل ری ہے اور ھی لکرس ےگی۔
تن ھ بے اور نفسیالی ینگ : علاے بمہددنے دا گی ف نکوہروقت ز ےی رکھا۔ داگ کی ذات کے پارے میں شک وک پیید اک نہر 1 وق تکوگی کو گی اتا اور سوال ا ٹھاۓے رکھنا :اس نس سے کو تچ کہ اسححا بکب فکون تھے ؟ذ والق نی نک قص ہکیاہے؟ رو نکی یقت کو ؟ ےآ ج کے دائی کے لیے بھی ای ہیء ہر وقت مت سے سوالی: تصرے اور مشورے ہیں : یہ پل یکیاہے؟ اس ہہ ک اک ناہوگا؟ رہ فلط فیصلہ ہے ؟ دجو تکور وک کے لیے سددے پاز یش رئیا و مصلجت :اس ق رآ نکونو بالاے طاق رک دو ۔کوگی اور ق رن لائو۔' لالہ کا زوس قاکرد ہیجیے۔ اد دکوالہ مان ےگ جمارے معبودو کور ان کے ء مھ رام عیادت ادا یی ءدعوت د بیج گر ہمارے یتو ںکو جہن کے نی جن ال تصورات پر نظام تر نکھٹراے ا نکونہ چیٹراجائۓے۔ ومن ط نکاسیاسی جزوممطل ہو جائۓ ورای نظا مکو ای بذیادوں پر ان رک کر ٣اس کے سای ٹمس در وحا نی نو حی تک اصلا معاش روک جائی ر ہے آ جک اصطلاح یر باست کے وستو رکوس ول ہو ناچا ہے یہاں دی نکی ت جججا تکاذکرنہ ہو۔ دی نل وگو کان ادگ معا راونا راز اصلا ںیک محر وددرے۔ یہ ببقاے با یکافار مولاے_ لصا میس سے جہہادکا کر جال دے۔ تم ایناکام کمروء دمحوت دوہ بڑے بڑے ایشا حکروہ صاری اوانول بیس ء پیر پاور کے شیا رکز یہ مساج تق کر و۔ بل دوادار یی کے سا وین چ رع لکرمیی۔
9 : صصص2ھ"و تح ریک نے نی صلی الد علیہ و سلم کے سان اسیک مطالیہ یہ تی رھا۔ الگ رآ پ اپنے عق سے ہکارے معاششرے کے الو گو ںکوءہمارے فلا موں اور لڑکوں پالو ںکوثکال دمیں فو بجر مآپ کے پا کر شیٹھھیں کے او رآ پکی تفلیما کو سی گے۔ موجودوحاات میں ىہ ہمارے مر سے سے فر وت ےکہ پم مہ طبقے کے لوگکوں کے سما تق نشسرت و بر خاست
کریں۔ مطلوب بہ تھاکہ تح ری ککوان جان شنارو ںکی غخد مات سے محرو مکردیاجاے۔ خر جج ھ بے افخقیار سے گئےء وی کے ذر ییے الع کے لیے رنماٹ یی اگئی : وانمزد یڑ وع مم اق
سو
دا تی مکش (انعام )٦:۵۳ ”جو لوگ اپنے ر بکو ۔ “کرات دن پکار نے میس گے ہو ے ہیں ء امیس اپننے سے ذو رت کپٹیکو ۱ آنغ 0 جب ایک ذی اث الف ےگنن کے دوران ایک سا یکی مداخل تکو :ایند فرب اتوداگیا مض مکوت یہ ہآگئی بس و وبی۔ ہے دا ہے 2 5 ہک .“ئا ھی (عمیں ۸۰:۱-۔۲) تترش رد ہواادر ہےر فی کی ۷اس بات پ کہ دوانطدحاائس کے پا ںآگیا
الِقرلیش وفد تناک ہآے او رکہاکہ باد شادینا لیے ہیں ٠ علار غکر وادتے ہیں٤ دوات ش کر دنت یں کیا امیر خا نون سے شیاد یکا دتے ہیں۔ غرم انمالی فطرت کے یت ذکمزور پبلو ہو سکتے ہیں سب کے ذر بی وا رکیاءاور ربا کیا دا گی عق دعوت سے باز نیس اےورامٹ سر ی۔اپناراتے پر یہ کون او رکاىل١ نان قلب کے سا یلت رہے۔ابیقیاد عوت بہ باننک دب با نر تے ریت نظ رپ یء نہ ز بان لڑ رکھٹرا کی نہ پے شبات بی لغش لآ کی آ رج کے دای کے لیے ء اس میں بڑا سج اور ہنماکی ونمونہ
ہسے۔
آمیدراور حو صلہ :خداکا ام سان ےک ہک یگ کو ہے می لکھوے۔ جب دعوت کے ل کان بن کر لیے گے نوطائ فکاسف رکیا۔ یک باہ 1 کی مسافت کے بعد ءااس س رسب خطے کے خوش حا لمیفوں کے پاس پیج اور دعوت دی سرداروں نے دجو تکا سخ را ایااور باذار 2 فا موں اورلونڈو ںکو بے لاد باج شور مات اورپ مارتے بیہاں کک گب داہان ہو جات ہیں اور ایک پا شش پناہ لیے ہیں اور
۔““د عوکر تے ہیں : ”” یھ تی رکیر ضااورخو شفودئیکی طلب ے۔ نج می را ایک سے بج ےکس کے ہو ال ےکرنے والاے
پہاڑو ںکاف رشن حاضر ہو اے۔اشار وکربں وطائف کے لوگو کون پپہاڑوں کے در میان جٹیں کر رکودوں مان عالم یی بی کی ا او ا ا ا ا ا بماعتۃآن یا ودرا یمان لا ہے۔ قیام نہ کے دو ران میس سور“ پوسف نازل ہوثی ہے اور عدریث دنگ ال کے پردے ٹیل ءدا يِٰ ع یکو شارت دی جائی ےکہ عالا تآ :اسا زگ ہی گر امیا مکار خلبہ تھاراہے .رآ کے داعی کے لیے بھی مہ بخار یں ق ران پک یں فو ظا ہی ںگ کوک ان پ کان نود رے او رجھے تو سہی۔
اتا کی اسازگار ماحول میس ء صاف صاف الفاظظ اور فیصل گن ان از شی ء ایک نھرودلگایا: شض عق نآگیااور ال مس ٹگیاء پل وش والادی
سے“ (نی اس ایل ۱2:۸۱ )۔ اگ رآ عکوکی ےک ام رپکاقلس تکھا تےگاءر و سکی طر ٹول ےگااور خے مسلما نکیامیاب ہوں گے
فو گکجیں م ےکہ م ہی دی ا ےکی ڑے۔ خوش نٹھی میس نر ہیں اورزینی طقا کی دمکھیں۔ اس وقت بھی ہہ یکہامیااور می ہیاداممن تھا نے او کو شش میس گے رت ےکا سجقی ہے جودا گی نے دیا۔
حر تکام رح فا ناکرا یآ پک نے فالی نے سے زی ون گے ھا ات بی ایک 1 کہ ”ناے میرے رب ! مج ھکو صد کیا راددکیے کال اور کے اتی بارگادسے اقترا رکی صورت میس یرد عط اکر“ دعامیں اقترا رکی طل بکو شا لکیا۔
تشد کسی نز لزل نظا مکا1خ کی ہتھیار ہو تاہے۔ تقام ق انگ ے نماینرے لیے جات ہیں او رگروہ بر اے جملہ تشکیل دیاجاتاہے۔ دا گیا ۱ 712 کا ماصمر ہک لیا جاناہے۔ ایک تل ہیر ہت ہی رکمرنے وا ل ےکمرتے یں ۱ اد دا یک تل یر تر ال اکم ہیی ککرتاہے ال ن اتل ہیر
کرے والو ںکو پیر اکر نے الا اوران سے ا ھی تل ہی کر نے والا۔ پچ را نکی نل ہب ر ارت جال یں ک ل مہ سے بجر تکیارات بی ہُدااو رآ نج گیا یہ ہو اسے اور یہ ہو تار ےگا۔ انس سر چجر نکی صعوبتوں میں کبھ یکا تن اددتامتلخم نہک ءال تحوارے اض
ہے۔التقویہ ۹: "کک پغام دیاجانتاے۔
داگیٰا مم ینہ کے ہیں۔د عو تکااسلوب ککیاے۔ تہ عاصل لک جات سے اورگارے اورگھاس پھوٹس سے مسر نبو کی نمی رکی
جائی ہے۔بیہ مدع عباد تکگاواور معب نیل ہے یہ عکومت کےکیاروبار مشور ےکایوانء پارلیئنٹ: ص رای ہمان خاشہہ سی رجح
0 20و" ہو ری دارالعوام اور قوی پیر اھر رکز کیادفات ہیں۔لوں اسلائیر یاص تک تا سی ہو لی ہے۔سیا سی لفاظ
سے انم نی کی اقلرامء بیفاتی لین دکیاجاتاہے۔ر یاست پچلانے کے لیے م دیع کے بیپودومش کین اور مسلرانو ںکی سوسائ یکو یک نظم پر ددیااناہے۔ الیک تیر کی معاہدہ ہوا جج سکود ماک پہلا تریر ید ستو ہکماحجاسکتاے۔
رین کے مض م ہونے وانے مار ہین کی ات وی سے او یکا ات تح بورغ لق اڈ ے اتھارٹیٰ یجن یآ خر افققیارءنی صلی اون علیہ و سم کے باتھدمٹ گیا دفاگ اط سے مد ینہ ادر اس کے گردوفوا نکی لور یآ بادگی
ایک مد طاقت ہم نگئی۔ نی صلی اللدعلیہ و سلم بطورداگیء مر نے کے معاشر ےکیاسب سے ہڈا معا شی متلہسیکڑ ول مہ جم نکی بحالی کا مستلہ ء مواغات 70 7 جک
دائ یکر دارء صرف ایک صصونی درو لی کا یں بللہ اتا گی معاملا کو سنبالیے ؛ سنوار نے ماہر انہ عکمت سے پو راکھرن کا نظ نا
ہے۔ تھ نی فظام یش بی صلی اللدعلیہ وس مکوکی جز وی اصلا جات تے یاہم گی ر؟دعوت نہ ببی داغلاقی شی یاساہی اہلیت ھی رھت
تھی ؟نترہ رید یاکیاا درا سک وضاحت مہرد لگن :”نوج و سے جس نے اپنے د سو لکوہدایت اور دن عق کے سا تج مھا اہ سے ٦٦:۹( پورے کے پورےد بین پر غااب 2 کین کو ےکتناہی :اگوا رہو““_(الصف
من نقی نک کر دار نار الا مکااریک جیب البید ےکہ الس وقت کےگمدکی ٹن ائلط ہب بیجوداور مش کین کہ خالفت مل سب 1 سےآ گے تھے رای وعیار کی س رگرمیاں جار ی یں جو اور سمازش ھی اور پچ راس میں مناشقین بھی شال ہو گے مر یے کے اس دور میں یی دو تو خی ںآ می نکاسمانپ :نر ہیں۔ رت کے اسیک سال بعد بد رکا مع رک ہآتاہے۔ پچ رأحدکا میید ان مجنا ہے۔ ایک ہزا رکا اکر سے ایک تپائی منا فوطاباان۔ یکس کی یی تک ات ینا سے ال کی .تن سی ےی / مت مقر یے۔
رھ کہاگ یاکہ ” اگ قیادت کے انخقتیارات ٹیل جھار الچھی یھ حصہ ہو جات پھم نہ مارے جات ءاگر جوارے مشورے پ رم لکیاہوتا وی دن دیکمنان ٹڈ تا“ غزوئ اطزاب شر و ہو اے بے ار وز سے حاصرو جار ےط رشن پڈڑانوڈانے ٹیش ہیں۔سما راع ب اکٹھاہ دک را آاۓ۔ و پاااس دقت ناوک مانند اتمادکی فو جییں ءآخ می ضرب لگانے کے ےکی ٦ لم یا یہ ددائیال اور داد یاں عمر وپ ہیں۔ غمز وم تو وک سے وائچی پر داقع اک جن کا ہے ام امو مین حطر ت عائٹ پر رکیک الزام نے اورجب معا مہ داگیء تج یک کے تام یی یو ی سے متحل ہو تا سکی نو عحیت او ربھی ین ہو حاتی ہے۔اس پ نان اورالزام تراش یکا معاملہ ایک اتک چلنارہا۔اس ہگامہ خی و فان سےگزرتے ہو ۓے حضرت ما کے ساتق ساتجھ دی ہوم ذات دا گی تن ؛ نجیر حم تک تید 6 7 گا لی ظرنی: حوصلہ من دی اور عبر و 12 تیم مظاہر موا ہے۔ بی رت 2 جذ بای اور و قار لم ز مل اخ رکیا۔ تصو رکم تماکہ ددازساضر تکا غجات بہندہءا نعکواان کے ر بکی رف بلا تا تھا
پن من اوراختاو+وا ي و 7 شخصی تکاایک اوراہم پچ ہے جآ کے داعیال ناد بن یا تبیت کے لیے اخیا رکیاگیا۔ مدریندٹش 1
می صلی اول علیہ ول امیر امو مین تتے۔ مسلمانوں کے ےی کی یں جللمہ اد دگگرد کے ق انل کے سا تق بھی بیشاقی مد بین کے بعد ء سای
اتپارے یکاخ ری ا خقمار نب یکرمھم کے پال ہی تھا الن ایر اے سا خھیو ںکوایااعخماد اہ جب ھی صل ال علیہ و صلھم نے اعلان را ا
کہ می ںآ رج رات سفر معم راج می لآ سمالوں پہ ۹" "و 0۴۰ تھی مد عوککررے
ہیں ءمشی ای مافوق الفطرتء جیب وخریب بات ا نخرت ال ھجک ایک حصے وذ قف کے بضیرفرمات ہیں : اگردوم ہکہہ ر سے ہیں نویک آوبضو لاد
مشاورت سے ٹیل :اللہ تھالی نے ہدایت فرماٹی نہ معاملات ہام مشھورے سے ٹ ےکمرمیں۔ اس ط رح مشاور تکار اس دکھایاادر 1 آم ریت کاراسترر دکاگیا۔مہ بھی ہواکہ سراخقیوں سے غلطیاں ہوجیں ءان کے ر ویوں سے و لگ فمگی بھی ہو کی مگ عم ہہ کہ ا نکو ش ری مور و رکھوء اوران کے لیے الد تھی سے معانی بھی ماسگتے رہو۔ جب مشاورت سے فصلہ ہو جا ۓآ پچ راید ایر چھ روس رکھواسی بناپر بی سکھانے کے لیے ء احد مل ءا اب میں بن و نضیی رکا فی ہکرت ہو ے او رکئی متا ا ا ا لی الر حم قو لکیا_ج سکامطلب یہ ےک ہآ بھی ٹیلے مشاورت کے ذر بی ےکر اور پر ملمشن وشابت ققرم رہناہگا۔
7 9 "0000ی ۱۷یس کرانو ںکواسلا می نظا مکا ینام کپجنواناتھا۔ ان کم رانو ںکو نطو کین ہو ۓ نی صلی الد علیہ و لم نے ابیک طرف تو مروچ ہآ وا بکا اتا مکیاء ہر لق ءر وی سلطن ت ہاج دار تھا پر وییہکس ایر ا نکی بہت مڑگی ساط تکا حم ران تھا بج ینہ مان یمامہ سکنندری کے پا شاہو ںکو خطویط جچٹوا ےک ای ای ایک نل سے دعوت دی جا ے۔
خلبہ دی نکی تر ہی :أع مات مو م۲ن اور صحابیات کے سا" سوک اوران کے ذر یج ۵۰ بی صدآ بادی یس دعو تکالغوزہوا_ معاشی 1 تحلیدرات دیس اور سودکے نات وراشتء لوہ محاشر سے کے 6 مین اف رن ویو اکر وانے بی علقن دعور کاحصہ راےس دا ہوا۔انمانوں 21 فان جک ان ہے لے پہ ہا فی خدائی جمانے کے اد لی اظہار کے بھاےء پیل سے کی" و ترانے تے۔انساضیت کے نام ام دیا۔ بین ال قوائی انسالی مطشور ین یکمااور می ھی خر ماد یاکہ جو موجو دہ ء اس
20 ت00 100ر ری ا ۲ : ۲( : ٌ :دعوت۔ بر فشن دور میں می اسوئہ دعوت ہے ___ بلا شب ہر ج کے ہرداعی کے لے دا گیا صشھمُرجنماہیں
72
کا نز
لی ارد أض يك تن( زاب ۱٣:٣۳۳)ور تقیقت تملوگوں کے لے اش کے رسول ٹیس یک مب رین ضموشہ سے۔